وضوح کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۸
وضوح کا مسئلہ
واضح (clarity) فکریا تقریر و تحریر کا بے حد اہم پہلو ہے۔ یہ دراصل وضوح بیان ہے جو کسی کلام کو مؤثر (effective) بناتا ہے۔ جو کلام وضوح بیان سے خالی ہو، وہ عملاً ایک بے نتیجہ کلام بن جائے گا۔ وہ کہنے والے کے لیے ایک کلام ہوگا، لیکن سننے یا پڑھنے والے کے لیے وہ غیر واضح الفاظ کا ایک مجموعہ۔ وضوح کی شرط صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ تقریر و تحریر سے پہلے آدمی خود اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كل مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهودانه، أوينصرانه، أويمجسانه (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔
ڈی کنڈیشننگ پہلے آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرتی ہے۔ اس کے بعد انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے ۔ وہ آبجیکٹیو انداز میں رائے قائم کرے۔ اس لیے جو لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ سے پہلے تقریر و تحریر کا عمل شروع کر دیں، ان کا کیس کم وبیش putting the cart before the horse کا کیس بن جائے گا۔
اس معاملے کو استعارہ کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں پہلے ”غارِ حراء“ کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں ”اقرأ“ کا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی پہلے سیلف تھنکنگ (self thinking) کے ذریعہ اپنے دماغ میں وضوح لانا، اور اس کے بعد لکھنے اور بولنے کا عمل شروع کرنا۔ اسی بات کو صحابی رسول جندب بن عبداللہ نے کہا ہے: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن فتيان حزاورة، فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر (61)۔ اس روایت میں غالباً اسی حقیقت کا ذکر ہے کہ ہم نے پہلے اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کی۔ پھر ہم نے اپنے کو اس قابل بنایا کہ ہم قرآن کو واضح انداز میں سمجھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues