Al-Risala · February 2018 · page 30

یہ بھی جھوٹ ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰

فطرت کا نظام

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ - الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (2:155-57) ۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ جو راہ پر ہیں۔ ان آیات پر غور کرنے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے غیر متعلق نہیں ہو گیا۔ چوں کہ یہ صرف خالق ہے، جس کو تمام حقیقتوں کا علم ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ خالق اپنے علم کے مطابق، انسان کی رہنمائی بھی کرتا رہے۔ لیکن چوں کہ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے یہ رہنمائی جزئی طور پر کتاب اللہ کی صورت میں دی گئی ہے، لیکن زیادہ وسیع پہلوؤں کے اعتبار سے وہ حالات کی زبان میں انسان کو فراہم کی جاتی ہے۔

اسی فطری رہنمائی کو یہاں مصیبت کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جن حالات میں زندگی گزارنا ہے، اس میں بار بار اس کو وہ چیز پیش آتی ہے، جس کو یہاں مصیبت (suffering) کہا گیا ہے۔ یہ مصیبت انسان کے لیے کوئی برائی (evil) نہیں ہوتی۔ نفسیات کی زبان میں وہ حالات کا دباؤ (compulsion) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ دباؤ کے یہ حالات انسان کو عمل کا رخ (direction) دیتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ انسان کی سوچ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page