یہ بھی جھوٹ ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲
ہوئی۔ اس لڑائی کو تاریخ میں یوم بعاث کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: کان يوم بعاث، يو ما قدمه الله لر سولہ صلی الله وسلم، فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد افترق ملؤهم، وقتلت سرواتهم و جرحوا، فقدمه الله لر سولہ صلی الله عليه عليه وسلم في دخولهم في الإسلام (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777)۔ یعنی بعاث کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے پیدا کیا تھا، چنانچہ جب آپ مدینہ میں آئے تو یہ قبائل آپسی اختلاف کا شکار تھے، اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے، اور کچھ زخمی ہو گئے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ سے پہلے وقوع پذیر کیا تا کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔
اس روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ جو صورت قدیم مدینہ (یثرب) میں پیش آئی، وہ کیا تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ہجرت رسول سے پانچ سال پہلے مدینہ کے دو قبائل، اوس اور خزرج میں باہمی جنگ ہوئی، اس میں ان کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس حادثہ کے بعد اہل یثرب کے درمیان یہ ذہن پیدا ہوا کہ ہمارا موجودہ قبائلی کلچر ہمارے لیے مصیبت بن گیا ہے۔ اس وقت ان کو نظر آیا کہ اسلام ان کے لیے بہتر انتخاب (better option) ہے۔ واضح ہو کہ ہجرت سے پہلے اسلام یثرب میں پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہ مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت جلد آپ مدینہ والوں کے لیے قابل قبول (acceptable) بن گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ تاریخ میں کس طرح حالات کا دباؤ لوگوں کے لیے اس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، اور جنگ کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کریں۔
مصیبت کا یہ فطری فارمولا افراد کے لیے بھی ہے، اور گروہوں کے لیے بھی۔ تاریخ میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی ملیں گے، اور ایسے گروہ بھی جن پر مصیبت یا دباؤ کے یہ حالات پیش آئے۔ اس کے نتیجہ میں انھوں نے مسئلے پر دوبارہ غور کیا، اور نئے بہتر فیصلے تک پہنچے۔ حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دباؤ (pressure) کی صورت پیش نہ آتی تو افراد اور گروہ دونوں کے لیے کوئی نیا فیصلہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues