Al-Risala · February 2018 · page 34

فساد فی الارض

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۴

فساد فی الارض

قرآن کی سورۃ البقرۃ میں ایک کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (2:11)﴾_ یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں جس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو بظاہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر اُن کا طریقہ درست نہ ہو۔ اُن کا طریقہ ایسا ہو جو عملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہو۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ اُن کے طریقہ کے نتیجہ میں لوگوں میں باہمی ٹکراؤ پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہوجائے۔ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الأرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اور لڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود اُن کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے، نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔ کوئی بھی اصلاحی کام صرف اُس وقت اصلاحی کام ہے، جب کہ وہ امن اور انسانیت کے دائرہ میں کیا جائے۔ اصلاح کے نام پر کیا جانے والا ہر وہ کام غلط ہے، جو سماجی امن کو درہم برہم کرے_ جس کے نتیجہ میں جان اور مال کی تباہی ظہور میں آئے۔ اصلاح کو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بھی اصلاح ہونا چاہیے۔ جو اصلاح اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی فساد ہے، خواہ اُس کو کتناہی زیادہ خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page