Al-Risala · February 2018 · page 37

فوکس کو سمیٹنا

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۷

فوکس کو سمیٹنا

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کر سکیں۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ تقریباً ہر ایک نے اپنے فوکس کو پھیلایا۔ انھوں نے جامعیت کے غلط تصور کے تحت بہت سے کاموں کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ یہ کام کا صحیح طریقہ نہیں۔ کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے۔ صرف فوکس کو سمیٹنے کی شکل میں کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دورِ آخر کے لیے اہلِ ایمان کو یہ نشانہ دیا تھا، جب کہ آپ نے کہا تھا: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی چھوٹا بڑا گھر باقی نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا۔ اس حدیث میں ادخال کلمہ سے مراد عملًا ادخالِ قرآن ہے۔ یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری، ہر ادارہ، ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچا دینا۔ یہ حدیث بظاہر دورِ آخر کے لیے ہے، جب کہ کمیونی کیشن کا زمانہ آجائے۔ قرآن کو ہر زبان میں ترجمہ کر کے اس کو ہر گروہ کی قابل فہم زبان(understandable language) میں پہنچانا ممکن ہو جائے، خواہ پرنٹ ایڈیشن کے ذریعہ ہو یا الیکٹرانک ایڈیشن کے ذریعہ۔ مسلمان لمبے عرصے سے پولیٹکل ایمپائر کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے، اور صرف ایک کام کو اپنا فوکس بنایا جائے، اور وہ ہے قرآن کے اشاعتی ایمپائر کا قیام۔ جیسا کہ عیسائیوں نے ویٹیکن کو بائبل کا اشاعتی ایمپائر بنا دیا ہے۔ دعوت کے پہلو سے اسلام کا نشانہ کنورژن یا پولیٹکل غلبہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف پرامن طور پر ابلاغ (پہنچادینا) ہے۔ داعی کا کام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مدعو کا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔ قرآن میں یہ حکم 20 سے زائد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے: مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ (5:99)۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page