عیب کا تحفہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰
عیب کا تحفہ
حضرت عمر فاروق ایسے انسان کو بہت پسند کرتے تھے، جو ان کو ان کی غلطی سے آگاہ کرے ۔ اس سلسلے میں ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: رحم الله امرأ أهدى إلي عيوبي (مرآة الزمان في تواريخ الأعيان، 5/389) ۔ یعنی اللہ اس انسان پر رحم کرے، جو مجھ کو میرے عیب کا تحفہ بھیجے ۔
یہاں عیب سے مراد غلطی ہے۔ اگر کسی انسان سے کوئی غلطی ہو جائے، اور اس پر وہ متنبہ نہ ہو سکے تو دوسرے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ اس کی غلطی کی نشاندہی کرے ۔ بتانے والا خیر خواہی کے ساتھ بتائے، اور سننے والا شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کرے ۔ جس سماج کے لوگوں میں یہ اسپرٹ ہو، وہ سماج ہمیشہ ترقی کرے گا۔ ایسے سماج کو کوئی چیز ترقی سے روکنے والی نہیں۔ غلطی کی نشاندہی ایک مثبت عمل ہے۔ یہ عمل فطری انداز میں ہونا چاہیے ۔ اس عمل کی صحیح اسپرٹ یہ ہے کہ نشاندہی کرنے والے کے اندر بڑائی کا جذبہ نہ ہو، اور جس انسان کو اس کی غلطی بتائی گئی ہے، وہ اس کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے ۔ اس اسپرٹ کے ساتھ جب یہ کام کیا جائے تو یقیناً غلطی کی نشاندہی ایک تحفہ کا معاملہ بن جائے گا۔
غلطی کی نشاندہی تحفہ کیوں ہے۔ وہ آدمی کو اس کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا معاملہ ہے۔ غلطی کی نشاندہی کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے یہ کہے کہ تمھاری فلاں عادت تمھاری ترقی میں رکاوٹ ہے، تم اپنے آپ کو اس عادت سے بچاؤ تا کہ تمھاری ترقی کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی غلطی دکھائی نہیں دیتی ۔ ایسی حالت میں جو انسان اس کی غلطی سے باخبر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ یہ بات اس کو بتائے ۔ خیر خواہی کی علامت یہ ہے کہ آدمی اس معاملہ میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ وہ اپنے ساتھی کی اصلاح کے لیے دعا کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues