اولاد کی حیثیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۵
اولاد کی حیثیت
ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں اولاد کو فتنه کہا گیا ہے (الانفال، 8:28؛ التغابن، 64:15) اس کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان عام طور پر اولاد کو خدا کا انعام سمجھتے ہیں، کوئی بھی اپنی اولاد کو فتنه نہیں بتا تا، پھر قرآن کی اُن آیتوں کا کیا مطلب ہے جن میں اولاد کو فتنه کہا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ اولاد اپنے آپ میں فتنه نہیں ہے۔ زہر اپنے آپ میں زہر ہوتا ہے، مگر اولاد کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ اصلاً فتنہ کے طور پر پیدا ہوتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فتنه بنانے کا معاملہ ہے، نہ کہ بذات خود فتنہ ہونے کا معاملہ۔ والدین کا اپنا غلط مزاج اولاد کو فتنه بنا دیتا ہے۔ والدین کے اندر اگر صالح مزاج ہو تو اُن کی اولاد اُن کے لیے فتنہ نہیں بنے گی۔ فتنہ کے لفظی معنی آزمائش (test) کے ہیں۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کو جو چیزیں بھی دی گئی ہیں، وہ سب کی سب امتحان کے پرچے ہیں۔ مال، اولاد اور دوسری تمام چیزیں بھی امتحان کے پرچے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام چیزوں کو اسی اصل حیثیت سے دیکھے، وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ وہ اس پر چہ امتحان میں پورا اترے۔
اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنائے۔ دوسری دنیوی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز، خواہ وہ مال ہو یا اولاد ہو یا اقتدار، وہ اس کا اصل کنسرن (sole concern) نہ بننے پائے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے نہ اتریں، وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا کنسرن بنالیں، وہ آخرت میں ایک محروم انسان کی حیثیت سے اٹھیں گے، جب کہ اُن کے تمام سہارے ان سے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ کہیں گے: مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهُ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهُ 28)- حقیقت یہ ہے کہ اولاد ذمے داری (responsibility) کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ فخر (pride) اور مباہات کا کوئی معاملہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues