Al-Risala · March 2019 · page 14

تربیت کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴

پوچھنے کے بعد بچی نے کہا کہ میں مومن ہوں اس لیے میں جنت میں جاؤں گی، اور تم مشرک ہو اس لیے تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ اس طرح موت کے بعد کی زندگی میں میرا اور تمہارا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ یہ سن کر ہریجن عورت نے کہا کہ تم مت روؤ۔ میں آج سے اسلام قبول کرتی ہوں تا کہ ہم دونوں ایک ساتھ جنت میں رہیں یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر گھر کا ماحول جیسا ہوگا، بچے اسی طرح کی راہ کا انتخاب کریں گے، اور یہی ماحول بچوں کی ذہن سازی میں رہنما کا کردار ادا کرتا ہے۔

☆☆☆☆☆☆

امریکا میں مقیم ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ہم کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد دینی اعتبار سے ان بچوں کا کیا حال ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے بچے سیکولر اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ البتہ ہم اپنے گھر پر اسی کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکا میں اس کو ہوم اسکولنگ (home schooling) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے امریکا میں رہنے کا فیصلہ کیا تو آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ یہاں کے کلچر سے اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ ہوم اسکولنگ کے ذریعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کاغذ کی دیوار سے سیلاب کا مقابلہ کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ غالباً کوئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں جس کی مثال کو لے کر یہ کہا جاسکے کہ ہوم اسکولنگ کا طریقہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف گھر کے ماحول کو بدلا جائے، اور دوسری طرف بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا جائے۔ گھر میں سادگی (simplicity) اور بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کئے بغیر اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page