Al-Risala · March 2019 · page 18

تربیت گاه

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

تربیت گاه

ایک حدیث رسول کا ترجمہ یہ ہے : تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو (ابن ماجہ ، حدیث نمبر 1977)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے گھر کے لوگوں سے معاملہ کرنے میں بہتر ہوگا، وہ باہر والوں سے معاملہ کرنے میں بھی بہتر ثابت ہوگا۔ گھر ہر آدمی کی فطری تربیت گاہ ہے۔ گھر کے اندر محدود سطح پر وہ سارے معاملات پیش آتے ہیں جو باہر سماج کے اندر زیادہ وسیع طور پر پیش آتے ہیں۔ اس لیے جو آدمی محدود دائرہ میں بہتر انسانیت کا ثبوت دے گا، وہ باہر کے وسیع تر دائرہ میں بھی بہتر انسانیت کا ثبوت دے گا، وہ باہر کے وسیع تر دائرہ میں بھی بہتر انسانیت والا بن کر رہ سکے گا۔ ایک صاحب گورنمنٹ سروس میں تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ بیوی کو دبا کر رکھنا چاہیے۔ گھر کے اندر وہ روزانہ اپنے اسی نظریہ پر عمل کرتے۔ وہ ہمیشہ گھر کی خاتون کے ساتھ سخت انداز میں بولتے۔ وہ ان کے ساتھ شدت والا سلوک کرتے تا کہ وہ ان کے مقابلہ میں دب کر رہیں۔ گھر کی تربیت گاہ میں ان کا جو مزاج بنا، اسی کو لے کر وہ دفتر میں پہنچے۔ یہاں ان کی افسر (باس) اتفاق سے ایک خاتون تھیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہاں بھی ان کا وہی گھر والا مزاج قائم رہا۔ وہ اپنی افسر خاتون کے ساتھ بھی اسی قسم کا مردانہ معاملہ کرنے لگے، جس کے عادی وہ اپنے گھر کی خاتون کے ساتھ ہو چکے تھے۔ لیڈی افسر ابتداء ان کے ساتھ ٹھیک تھی۔ مگر ان کے غیر معتدل انداز نے لیڈی افسر کو بھی ان سے برہم کر دیا۔ اس نے بگڑ کر ان کا ریکارڈ خراب کر دیا۔ ان کا پروموشن رک گیا۔ وہ طرح طرح کی دفتری مشکلات میں پھنس گئے۔ صحیح اصول وہ ہے جو گھر کے اندر اور گھر کے باہر دونوں جگہ یکساں طور پر مفید ہو۔ یہ اصول شرافت کا اصول ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ گھر کے اندر شرافت کے ساتھ رہے۔ وہ بڑوں کو عزت دے اور چھوٹوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرے۔ یہ اصول گھر کے اندر بھی کامیاب ہے اور گھر کے باہر بھی۔ یہ آدمی کی اپنی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اعتدال کے ساتھ رہے، اور گھر کے باہر بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page