پیمپرنگ کا نقصان
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۴۳
پیمپرنگ کا نقصان
میرے والد فرید الدین خاں کا انتقال دسمبر 1929 میں ہوا۔ اُس وقت میری عمر تقریباً 6 سال تھی۔ میرے والد اپنے تمام بچوں میں مجھ کو سب سے زیادہ مانتے تھے۔ وہ میرے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرتے تھے۔ اِس بنا پر میں بہت شوخ ہو گیا تھا اور اکثر طفلانہ شرارتیں کیا کرتا تھا۔ شیخ محمد کامل میرے پھوپھا تھے۔ وہ اس کو دیکھ کر غصہ ہوتے تھے۔ وہ میرے والد سے کہتے تھے کہ۔ تم اپنے بیٹے کو خراب کر ڈالو گے۔
لیکن بچپن میں میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ میری والدہ زیب النساء (وفات 1985) بتاتی تھیں کہ والد کی زندگی میں میں بہت بولتا تھا، لیکن جب والد کا انتقال ہو گیا تو اچانک میں بالکل بدل گیا۔ میری شوخیاں ختم ہو گئیں ۔ اب میں خاموش رہنے لگا۔ یہ میری زندگی کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ اگر میرے باپ زیادہ دن تک زندہ رہتے تو یقینی طور پر میں اُسی قسم کا ایک نوجوان بن جاتا جس کو لاڈ پیار سے بگڑا ہوا بچہ (spoilt and pampered child) کہا جاتا ہے۔ بعد کو میری زندگی میں جو حقیقت پسندی اور سنجیدگی آئی ، وہ براہِ راست طور پر میری بیٹی کا نتیجہ تھی۔ ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ابتدائی طور پر وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ مدت عارضی ہوتی ہے۔ اس کو اپنی بقیہ زندگی والدین کے ماحول سے باہر، دوسروں کے درمیان گزارنی پڑتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کا معاملہ کرتے ہیں۔ اِس لاڈ پیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھ لیتا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والا وہی ہے جو میرے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرے۔ لیکن یہ بچہ جب اپنے گھر سے باہر آتا ہے تو دوسرے لوگوں سے اس کو والدین والا لاڈ پیار نہیں ملتا۔ اب وہ ساری دنیا سے بے زار ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال نے تمام عورتوں اور مردوں کو شکایت کی نفسیات میں مبتلا کر دیا ہے، جب کہ صحیح یہ تھا کہ لوگوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے محبت کی نفسیات پیدا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues