Al-Risala · March 2019 · page 45

ڈفرنٹلی ایبلڈ پرسن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵

بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

ڈفرنٹلی ایبلڈ پرسن

اکتوبر 2000 میں میں نے بھوپال کا سفر کیا۔ اس دوران میں نے جو چیزیں دیکھیں، ان میں سے ایک رفاہی ادارہ بھی تھا، جو ڈفرنٹلی ایبلڈ بچوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا نام شبھم وکلانگ سیوا سمیتی ہے۔ یہ ادارہ 1980 میں قائم ہوا ہے۔ میں نے ان بچوں کو دیکھا جن کی تعداد 63 ہے ان میں ہندو اور مسلمان دونوں بچے شامل ہیں۔ میں نے کئی بچوں سے بات کی دو بچوں سے ہونے والی بات کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

سنتوش چورسیہ (عمر 14 سال) سے میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پڑھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ پڑھ لکھ کر میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوں گا۔ ایک بچہ جس نے اپنا نام شنکر شرما (عمر 12 سال) بتایا۔ وہ بھی اپنے دونوں پیروں سے معذور تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ پڑھنے کے بعد کیا کریں گے۔ اس نے جواب دیا میں پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ یہ بات وہ بچے کہہ رہے تھے جو اپنے دونوں پیروں سے معذور تھے اور جسمانی طور پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ علم میں کیسی عجیب طاقت ہے۔ علم آدمی کو اس حد تک باشعور بناتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اتنا طاقتور ہو جائے کہ اس کی جسمانی کمزوری ترقی کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہو گئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چناں چہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ مگر اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرنٹلی ابہیڈ (differently abled) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page