Al-Risala · March 2019 · page 49

تربیت اولاد

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۹، صفحہ ۴۹

جھوٹ، بدکاری، رشوت، غرور، حسد، الزام تراشی، ظلم، غضب، بد دیانتی، وعدہ خلافی، بدخواہی، بے اصولی، بدمعاملگی، انانیت، بے اعترافی، غلطی نہ ماننا، احسان فراموشی، خود غرضی، انتقام، اشتعال انگیزی، اپنے لیے ایک چیز پسند کرنا اور دوسرے کے لیے کچھ اور پسند کرنا، یہ تمام چیزیں اخلاقی معنوں میں زہریلی غذائیں ہیں۔ آج تمام لوگ ان چیزوں کو میٹھی شکر سمجھ کر کھار ہے ہیں۔ مگر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب انکا زہر یلا پن ظاہر ہوگا۔ اور پھر انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہاں نہ کوئی اس کی فریاد سننے والا ہوگا اور نہ کوئی اس کا علاج کرنے والا۔ ☆☆☆☆☆ اگست 1996 میں میرا امریکا کا سفر ہوا۔ وہاں ماؤنٹ ہالی (نیوجرسی) کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں زیادہ تر عورتیں شریک تھیں۔ اس میں خطاب کا موضوع تھا کہ امریکی معاشرہ میں بچوں کا اسلامی تحفظ ۔ اس پر بولتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا: میں نے کہا کہ اگلی نسل کا اسلامی تحفظ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک مولوی صاحب کو مقرر کر دیں جو روزانہ شام کو آکر دینیات“ پڑھا دیں۔ یا کوئی دینی رسالہ آپ اپنے بچوں کے نام جاری کر دیں۔ یا انھیں کلچرل نوعیت کی کچھ چیزوں کا عادی بنانے کی کوشش کریں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کو اسلامائز کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کو اسلامائز کیجئے۔ آپ کے گھر میں دنیا کا چرچا نہ ہو بلکہ دین کا چرچا ہو۔ گھر کا ماحول مادی رنگ میں رنگا ہوا نہ ہو بلکہ آخرت کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ دوسری بات یہ کہ آپ اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ پیدا کریں۔ یہ ایک اصول ہے کہ جو داعی نہیں بنتا اس کو مدعو بننا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ نے اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ نہیں پیدا کی تو وہ دوسروں سے متاثر ہو کر رہیں گے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2019 All issues

Printed page