Al-Risala · January 2019 · page 16

مشن، انٹرایکشن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۶

برہم توغع کے درمیان رقابت کی وجہ سے اس ملک کا ایک بڑا حصہ جو کہ عالم سیارہ، مریخ کا باسی اور نہ ہو، تو غیر عربی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر قریب کے کسی عالم سے ملے۔ وہ اُس عالم کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اِس طرح یہ ہوگا کہ الرسالہ کے قارئین کا تعلق علما سے بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں ان کو بہت سے دینی فوائد حاصل ہوں گے۔

الرسالہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اس کے قارئین کا عمومی انٹریکشن بڑھے، جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں کا تعلق علما سے قائم ہو، اور اِسی طرح، علما کا تعلق جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں سے قائم ہو۔ اِس طرح، دونوں کے اجتماع سے دینی اور دعوتی فوائد کے علاوہ، ان کے لیے ذہنی ارتقا کا دروازہ کھلے، اور وہ زیادہ بہتر طور پر الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔

اسوہ رسول (33:21) ئے قرآن میں بتایا گیا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) ۔ یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہلِ ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (33:50) ۔ یعنی یہ خاص تمھارے لیے ہے، سب مسلمانوں کے لیے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اور ہر فعل امت کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔

بوزیوں کے ساتھ رازداری کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page