Al-Risala · April 2019 · page 4

حظ عظیم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۴

حظ عظیم

قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ - وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (41:33-35) ۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا ۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔

قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہلِ ایمان کا ذکر ہے، جو بڑے نصیب والے (truly fortunate ) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔

اس انقلابی تبدیلی کا فارمولا کیا ہے۔ وہ صبر کا فارمولا ہے۔ صبر کا فارمولا کیا ہے۔ صبر کا فارمولا ایک لفظ میں یک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) کا نام ہے۔ یعنی جوابی ردِعمل کا طریقہ اختیار نہ کرنا، بلکہ فریق ثانی کی روش سے اوپر اٹھ کر غیر جوابی انداز میں یارِ عمل کا طریقہ اختیار کیے بغیر یک طرفہ بنیاد پر حسنِ عمل کا سلوک کرنا۔

ایسے لوگوں کو ذو حظ عظیم (truly fortunate) ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر سب سے بڑا اسلامی عمل ہے۔ اس لیے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنے والا ذاتی سوچ پر اللہ کی سوچ کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ ذاتی تقاضے پر کنٹرول کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو اختیار کرتا ہے۔ وہ قربانی کی سطح پر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page