Peace is the most successful policy.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۲۲
وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً مُّسْتَقِيمًا ۔ وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْراً عَزِيزًا (48:1-3)۔ یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تا کہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ تاریخ کے مطابق، معاہدۂ حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ یہ معاہدہ بظاہر فریق ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ۔ اس کے باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتح مبین کہا گیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد دعوت کے تمام مواقع کھل گئے۔ یہ مواقع اتنے غیر معمولی تھے کہ معاہدے کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہوگئی۔ اور جنگ کے بغیر صرف زیادہ تعداد فیصلے کے لیے کافی ہوگئی۔ حدیبیہ دراصل ایک عظیم پالیسی کا نام ہے۔ یہ پالیسی تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتائی، یعنی حالت موجودہ کو مان کر ٹکراؤ ختم کر دو، تا کہ مواقع (opportunities) کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے :
Hudaybiyah means the policy of positive status quoism. And positive status quoism is the key to super achievement. صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: اَلصُّلحُ خَيْرٌ (4:128) یعنی صلح بہتر ہے۔ گویا امن کا طریقہ سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے:
Peace is the most successful policy.
فلاسفہ اور مفکرین ہمیشہ امن کی بات کرتے رہے ہیں۔ امن کے مطالعے کے لیے ایک مستقل شعبہ علم وضع ہوا ہے جس کو پیسفزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے ایک مکمل نظریہ امن (ideology of peace) دنیا کو دیا۔ اس اعتبار سے آپ کو پیغمبر امن (prophet of peace) کہا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues