عقل کا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶
عقل کا مسئلہ
عقل (reason) کیا ہے عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے عقل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ میں نے کوئی مخلوق نہیں پیدا کی۔ جو میرے نزدیک تم سے زیادہ افضل ہو (ما خلقت خلقا... أكرم علي منك) نوادر الاصول، الحکیم الترمذی، جلد 2، صفحہ 353۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے۔ عقل کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں۔ عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہو جائے گا۔ وہ نہ حق کو حق سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل۔ عقل بذات خود معیار (criterion) نہیں ہے۔ عقل، فہم و ادراک کی صلاحیت (ability) ہے۔ عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات حج کی نہیں۔ عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے: Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises. عقل اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلا شبہ ایک غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذات خود کوئی ذریعہ علم نہیں۔ خود وحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتا ہے تو وہ بھی یہی کرتا ہے کہ وہ اپنی خدا داد عقل کو استعمال کر کے اُس پر غور کرتا ہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مدِّ مقابل۔ عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ اس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا۔ انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود ساختہ طور پر یہ دعوی کیا کہ عقل بذات خود حصول علم کا معیاری ذریعہ ہے۔ مذہبی طبقے نے اس تصور عقل
‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues