Al-Risala · April 2019 · page 29

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹

عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعِ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۚ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ (13:17) ۔ یعنی اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں بقا اور استحکام ملے۔ اور جو گروہ اپنی نفع بخشی کھودے وہ یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے۔

اس عالمی قانون کو ایک طرف کتاب الہی میں لفظی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دوسری طرف مادی دنیا میں اس کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ سورۂ رعد کی مذکورہ آیت میں اس نوعیت کی دو مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک مثال بارش کی ہے۔ بارش ہوتی ہے اور اس سے نالے بھرتے ہیں تو جھاگ اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ جھاگ تو ہوا میں اڑ جاتا ہے اور جو چیز اس میں نفع بخش ہے وہ باقی رہتی ہے، یعنی پانی۔

دوسری مثال دھات کی ہے۔ دھات کو جب آگ پر پگھلایا جاتا ہے، تو ابتداء اس کا میل کچیل اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر بہت جلد یہ وقتی منظر ختم ہو جاتا ہے اور جو اصل قیمتی دھات ہے وہ اپنی جگہ باقی رہ جاتی ہے۔

دورِ اول کی مثال

دور قدیم میں اسلام کو غیر معمولی عظمت ملی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام کو آباد دنیا کے قائد کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسلام کو

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page