Al-Risala · April 2019 · page 32

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲

جس نے جدید سائنس اور صنعتی دور کو پیدا کیا۔ کیوں کہ توحید کے انقلاب سے پہلے دنیا میں عملی طور پر شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو پوجنے کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق و تسخیر کی چیز کیسے سمجھتا۔ جب کہ فطرت کو تحقیق اور تسخیر کی چیز سمجھنے کے بعد ہی اس علم کا آغاز ہوتا ہے جس کو طبیعی سائنس کہتے ہیں۔

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں (مظاہرِ فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہرِ فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر بالواسطہ آیتوں کو بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یہ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظاہرِ فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہرِ فطرت پوجنے کی چیزہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہرِ فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے، اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔

اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کے اندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل و دماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا۔ اس نے عرب کے بت خانے ختم کردئیے۔ ایرانی اور رومی شہنشاہتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سر پرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کر لیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کر دیا۔ اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ یہاں ہم انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا ایک پیرا گراف نقل کرتے ہیں:

7th 10th, (16/368)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page