Al-Risala · May 2019 · page 5

خدا کی معرفت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۵

خدا کی معرفت

انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker) انسان ہے۔ اس کی تلاش کا اصل مرکز صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ انسان جب اپنے آپ کو دیکھتا ہے، اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتا ہے تو ہر طرف اس کو تخلیق کے کرشمے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے اندر فطری طور پر یہ سوچ جاگ اٹھتی ہے کہ میرا اور اس دنیا کا خالق کون ہے، اور اس سے میرا تعلق کیا ہے۔ آپ ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوں تو آپ کو بے شمار چیزیں دکھائی دیں گی۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اوپر سورج چمک رہا ہے، چاروں طرف آپ کے لیے ہرے بھرے درخت اُگے ہوئے ہیں۔ آپ کو مسلسل طور پر آکسیجن سپلائی کیا جا رہا ہے، جو آپ کے لیے زندگی بخش سانس کا ذریعہ ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دریاؤں اور سمندروں میں آپ کے لیے پانی کے بھاری ذخیرے موجود ہیں۔ آپ کو نظر آئے گا کہ زمین (soil) آپ کے لیے بڑی مقدار میں اناج اور پھل اُگا رہے ہیں۔ آپ دریافت کریں گے کہ پوری یونیورس آپ کے لیے ایک کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے، وغیرہ۔

غوروفکر کے ذریعے آپ جانیں گے کہ اس دنیا میں کوئی ہے، جو دینے والا (giver) ہے۔ سارے انسان اس کے مقابلے میں لینے والے (taker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسان کے اپنے وجود سے لے کر باہر کی پوری دنیا تک ہر چیز آپ کو اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہوئی نظر آئے گی۔ یہ معرفت کا آغاز ہے۔ اس طرح کے تجربے کے دوران آخر کار آپ اللہ رب العالمین کو دریافت کرتے ہیں۔ یہ دریافت آپ کے وجود کا سب سے بڑا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ دریافت آپ کے لیے ماسٹر اسٹرُوک ثابت ہوتی ہے۔ یہ دریافت آپ کی سوچ کو بدل دیتی ہے۔ آپ کے اندر پورے معنوں میں خدا رخی فکر پیدا ہوتی ہے۔ آپ کی ہر بات میں اللہ کی محبت اور اللہ کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ کے اندر ایک نیا ذہن جاگ اٹھتا ہے، جس کو عارفانہ ذہن کہتے ہیں — اسی کا نام معرفتِ خداوندی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page