شکر کا آئٹم
الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
شکر کا آئٹم
تقریبا تیرہ بلین سال پہلے سولر سسٹَم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی اس زمین میں ایسے مالیکیول رکھ دیئے گئے، جس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ہوتے تھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو گیا۔ ابتدا میں نیچر نے اس پانی میں حفاظت (preservation) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا۔ یہ نمک آمیز پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپر سورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ پانی جب سورج کی حرارت سے بھاپ بنا، تو فطری قانون کے تحت نمک الگ ہو گیا، اور پانی الگ۔ پھر یہ ڈیسالینیٹڈ پانی (desalinated water) ہلکا ہونے کی بنا پر فضا میں بلند ہوا، اور پھر آخر کار فطرت کے قانون کے مطابق وہ پانی بارش بن کر زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔
فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائیکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔
پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیلِ پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے، تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہر ہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً یہی وہ عظیم حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (16:18)۔