Al-Risala · May 2019 · page 20

جنّت کس کے لیے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

جنّت کس کے لیے

ایک حدیثِ رسول میں طالبِ جنّت کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: مَارَأَيْتُ... مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔ یعنی میں نے نہیں دیکھا، جنّت جیسی چیز، جس کا طالب سورہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنّت اس کے لیے ہے، جو سراپا طالبِ جنّت بن جائے۔ جو جنّت کی حقیقت کو اتنی زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے کہ جنّت اس کا انتظار بن جائے۔ وہ جنّت کی یاد میں سوئے، اور جنّت کی یاد میں جاگے ۔ جس کا احساس یہ بن جائے کہ اللہ نے اگر اس کو جنّت نہ دی تو اس کا حال کیا ہوگا۔ اگر وہ آخرت میں جنّت سے محروم ہو جائے ، تو اس کا کتنا زیادہ برا حال ہو جائے گا۔ اس کے لیے زندگی کتنی بڑی مصیبت بن جائے گی۔

جنّت کا طالب وہ ہے، جو جنّت کو دیکھے بغیر جنّت کو دیکھنے لگے۔ جو جنّت کو پانے سے پہلے جنّت کا طالبِ حقیقی بن جائے۔ طالبِ جنّت کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ یعنی اور ان کو جنّت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت میں جنّت کی معرفت کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مگر وہ مومن کی صفت ہے۔ مومن وہ ہے، جو جنّت کو اس طرح دریافت کرے کہ جنّت اس کا شوق بن جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنّت کیا ہے، اس سے لوگوں کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ ایمان جنّت کے بارے میں اپنی معرفت کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ جنّت اس کے لیے پیشگی طور پر ایک معلوم چیز بن جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنّت ایک ایسا مطلوب ہے، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے طالبِ جنّت کا مثنی (counterpart) ہے۔ وہ فطری طور پر انسان کا ایک معلوم مسکن ہے۔ گویا کہ جنّت انسان کے لیے ہے، اور انسان جنّت کے لیے۔ لیکن جنّت کا شوق جنّت کے حصول کے لیے کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ضروری تیاری کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page