Al-Risala · May 2019 · page 32

فطرت کا قانون

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲

management) پر قادر نہیں۔ یہ تقابل اللہ رب العالمین کے وجود کا ایک بین ثبوت ہے۔ ایک طرف انسان کا معاملہ ہے کہ وہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ پر قادر نہیں، دوسری طرف خالق کائنات نے زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا نظام مسلسل طور پر کائنات میں قائم کر رکھا ہے۔ تقابل کا اصول (تعرف الاشیاء باضدادها) کو اپلائی کیجیے تو اس سے آپ کی معرفت رب میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ زیرو ڈیفیکٹ کا کائنات سیکینڈ ورلڈ وار (1945-1939) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بہت سے آرٹیکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔ کئی ملکوں، مثلاً امریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پر عمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسب ذیل آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں :

The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)

دور جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی اور کتابیں لکھی گئیں ۔ بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دور جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دور جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش، وغیرہ، انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کر سکتے ہیں۔

ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر نا کام ہو چکا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page