Al-Risala · May 2019 · page 48

ربانی شخصیت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۹، صفحہ ۴۸

ربانی شخصیت

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے : کُوْنُوا رَبَّانِیّٰیْنَ (3:79)_ یعنی رب والے بنو۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جس کی شخصیت کی تعمیر اللہ رب العالمین کی معرفت کی بنیاد پر ہوئی ہو۔ جو اللہ رب العالمین میں جینے والا انسان ہو۔ علی ابن طالب نے ربانی کا مطلب بتاتے ہوئے کہا: هم الذين يغذّون الناس بالحكمة، ويربونهم عليها (زادالمسیر، 1/298)_ یعنی ربانی وہ لوگ ہیں جو انسانوں کو حکمت کی غذا دیں، اور حکمت کی بنیاد پر لوگوں کی تربیت کریں۔ ربانی سے مراد رب والا انسان (man of God) ہے۔ یعنی وہ انسان جس کے اندر پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد تلاش کی اسپرٹ جاگے۔ وہ غور وفکر کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی گہری ہو کہ وہی اس کی شخصیت بن جائے۔ وہ رب العالمین کی یاد میں جینے لگے۔ وہ رب العالمین کی یاد کو لے کر جاگے، اور رب العالمین کی یاد کو لے کر سوئے۔ اس کی دریافت اس کی شخصیت میں اتنی گہرائی کے ساتھ شامل ہو جائے کہ وہ اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا بن جائے، اور اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ اندیشہ کرنے والا بن جائے۔ اس کی یہ کیفیت اتنا زیادہ بڑھے کہ اللہ رب العالمین اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔ ربانی انسان کا یقین رب العالمین کے لیے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ رب العالمین سے اس کی سرگوشیاں (whisper) ہونے لگتی ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : يُنَاجِي رَبَّهُ (صحیح البخاري، حدیث نمبر 413)_ یعنی وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ یہ سرگوشی دو طرفہ ہوتی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوتا ہے، اور رب کی طرف سے انسپریشن (inspiration) کی زبان میں جواب آنے لگتا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)_ ربانی انسان در اصل اعلیٰ درجے کا عارف انسان ہوتا ہے، یعنی صاحب معرفت انسان۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2019 All issues

Printed page