Al-Risala · June 2019 · page 5

قرآن کا مہینہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۵

لیے ضروری ہے کہ اللہ کی جورحمت ہجرت کے زمانے میں غارثور کی تنہائی میں پیش آئی، ضروری ہے کہ وہ پیغمبر کے ساتھیوں کے لیے بھی مقدر ہو۔

آپ اگر اپنے ذہن کی تربیت اس انداز سے کریں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں چلتے ہوئے کبھی آپ پر یہ وقت گزرے کہ جہاں آپ ہوں اور آپ کا ایک ساتھی ہو، اور پھر آپ کو یہ یاد آئے کہ اہل ایمان کے لیے قرآن میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کے اوپر اللہ کے فرشتے اترتے ہیں۔ اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے مددگار ہیں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ، نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (31-41)۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم دنیا کی زندگی میں تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔

ان باتوں کو سوچتے ہوئے عین ممکن ہے کہ آپ اپنے ساتھی سے کہہ اٹھیں کہ اندیشہ مت کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اور وہ واقعہ یاد کریں جو کہ غارثور میں پیش آیا تھا۔ غارثور کا یہ واقعہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ اس موقع پر رسول اللہ نے جو کہا، وہ یہ تھا: یَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381)۔ یعنی اے ابوبکر، تمھارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ ایسے موقعہ پر آپ پر سکینہ نازل ہو اور اپنے ساتھی سے آپ یہ کہہ اٹھیں: یا صاحبی، ما ظنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ یعنی اے میرے ساتھی، تمھارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے، فرشتہ جن کا تیسرا ہے۔

❀❀❀❀❀

علم کا آغاز معرفت ہے۔ معرفت کے بغیر علم ایک فن ہے۔ معرفت کے بعد علم وزڈم بن جاتا ہے ۔ علم کے لیے معرفت کی اہمیت وہی ہے، جو اہمیت سائنس میں میتھمیٹکس کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues

Printed page