عصر میں میسر
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷
نے بتایا کہ ایک مسلمان عالم ایک باران کے یہاں آئے۔ یہاں کمرے کی دیوار پر ایک کیلنڈر لٹک رہا تھا، جس پر ایک ہندو دیوی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ نماز کا وقت آیا، تو مولانا صاحب نے اپنی شیروانی اتار کر کیلنڈر کے اوپر لٹکا دی۔ اس وجہ سے اس کی تصویر شیروانی کے نیچے چھپ گئی۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے میرے کمرے میں نماز ادا فرمائی۔ اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا موصوف نے جو کچھ کیا بجائے خود درست تھا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ نمونہ ہے، اور دوسری طرف یہ مختلف مثال ہے کہ قدیم مکہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وہاں روزانہ نماز ادا کرتے، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ پہلے ان بتوں کے اوپر چادر لٹکائیں، اور پھر وہاں نماز ادا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم دعوتی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے ایک بے حد ضروری شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر نا خوشگوار باتوں کو نظر انداز کرنے کا مزاج موجود ہو۔ وہ ان چیزوں سے پاک ہو، جو مدعو کی نظر میں کڑپن، تنگ نظری، اور عدم رواداری بن جاتی ہے۔ دعوتی کام کے لیے رواداری لازمی شرط ہے۔ داعی کے اندر اگر رواداری کا مزاج نہ ہو تو وہ کامیاب داعی نہیں بن سکتا۔
عصر میں میسر
11 ستمبر 2001 کو نیو یارک اور واشنگٹن میں جو بھیانک واقعہ ہوا، اس کے نتیجے میں ساری دنیا کا میڈیا اسلام کو ٹرزم (terrorism) کے روپ میں دیکھنے لگا۔ مگر اس عصر میں بھی یُسر کا ایک پہلو نکل آیا۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں تجسس (curiosity) کا ذہن پیدا ہوا۔ چنانچہ پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کا مطالعہ کیا جانے لگا۔ خود اس وقت کے امریکی صدر بش نے واشنگٹن کے اسلامک سینٹر کی زیارت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے اس دوران دو بار قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ جرمنی سے آئے ہوئے مسٹر فاروق نے بتایا کہ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد قرآن کے جرمن ترجمہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues