زندہ انسان
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۴
زندہ انسان
لبید بن ربیعہ بن مالک العامری (وفات 41ھ) قدیم عرب کے ایک مشہور شاعر تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں سے ہوتا ہے۔ فتح مکہ سے پہلے انھوں نے اسلام قبول کیا۔ شمس الدین الذہبی نے تاریخ الاسلام (4/55) میں لکھا ہے: کہا جاتا ہے کہ اسلام کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی، اور کہا: اللہ نے مجھے اس کے بدلے قرآن دے دیا ہے (أَبْدَلَنِي اللَّهُ بِهِ الْقُرْآنَ)، اور کہا جاتا ہے کہ قبول اسلام کے بعد انھوں نے صرف ایک شعر کہا تھا، جو یہ ہے: وَالْمَرْءُ يُصْلِحُهُ الْقَرِينُ الصَّالِحُ حضرت لبید نے اپنے شعر میں جو بات کہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ شریف آدمی احتساب غیر کے بجائے احتساب خویش کے معاملے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطی پر گرفت کرتے ہوئے نرمی کا انداز اختیار کر سکتا ہے، مگر جب معاملہ خود اپنی غلطی کا ہو تو وہ اس کے لیے بے رحم محاسب بن جاتا ہے۔ شعر کے دوسرے مصرع میں انھوں نے صحبت کی اہمیت بتائی ہے، آدمی اگر زیادہ دیر تک برے کی صحبت اختیار کرے تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی برا بن جائے، اور جب آدمی اچھے انسان کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کی صحبت کے اثر سے وہ بھی ایک اچھا آدمی بن جاتا ہے۔ خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک بار حضرت لبید سے کہا کہ اپنے کچھ اشعار سنائیے۔ حضرت لبید نے جواب دیا کہ اللہ نے جب مجھ کو بقرہ اور آل عمران جیسی سورتوں کی تعلیم دی تو اس کے بعد میرے لیے مناسب نہیں کہ میں شعر کہوں (ما كنت لأقول شعر ابعد أن علمني الله البقرة وآل عمران) الاستيعاب في معرفة الاصحاب لابن عبد البر، جلد 3، صفحہ 1337۔ یہ بات بظاہر قرآن کے مقابلے میں ہے، مگر وسیع تر معنی میں اس کا تعلق دوسری حقیقتوں سے بھی ہے۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق قرآن کے سامنے خاموشی اختیار کرنے سے ہے، اور وسیع تر انطباق کے لحاظ سے ہر حق کے سامنے اپنی زبان بند کر لینے سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues