Al-Risala · July 2019 · page 12

سادگی کی اہمیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲

سادگی کی اہمیت

سادگی کی اہمیت کسی انسان کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کا کوئی بدل نہیں۔ سادگی اعلیٰ کامیابی کا زینہ ہے۔ جو شخص سادگی کو اختیار نہ کر سکے وہ یقینی طور پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ سادگی محض ایک اخلاقی صفت نہیں۔ سادگی ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ سادگی آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا کوئی حصہ بے فائدہ طور پر ضائع کرے۔ سادہ آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنے وقت کو زیادہ مفید طور پر استعمال کرے۔ سادگی دوسرے لفظوں میں، وقت اور مال کو زیادہ بہتر طورپر مینج (manage) کرنے کا فن ہے۔

سادگی کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ لباس، کھانا، فرنیچر، سواری، مکان، تقریبات، وغیرہ۔ زندگی کی ہر سرگرمی میں آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب رہتا ہے۔ یا تو وہ تعیش اور نام ونمود کے پہلو کو سامنے رکھے اور اپنا مال ان میں خرچ کرتا رہے۔ یا وہ صرف اپنی ناگزیر ضروریات کو دیکھے اور اپنے مال کو صرف حقیقی ضرورت کی مدوں میں خرچ کرے۔

غیر ضروری مدوں میں اپنا مال خرچ کرنے کا نقصان صرف یہ نہیں ہے کہ اس میں آپ کا مال غیر ضروری طور پر ضائع ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کریں، وہ مادی نمائش کی چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ ان کا فکر سطحی چیزوں سے اوپر نہیں اٹھ پاتا۔ اس کا نقصان اسے اس شدید صورت میں بھگتنا پڑتا ہے کہ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جاتا ہے۔ ایسا انسان بظاہر زرق برق چیزوں کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ مگر اپنے ذہن کے اعتبار سے وہ حیوان کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ وہ اعلیٰ ذہنی ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔ سادگی روحانیت کا لباس ہے۔ سادگی روحانی انسان کا کلچر ہے۔ سادگی ربانی انسان کی غذا ہے۔ سادگی فطرت کا اصول ہے، سادگی سنجیدہ انسان کی روش ہے، سادگی ذمہ دارانہ زندگی کی علامت ہے، سادگی با مقصد انسان کا طرزِ حیات ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page