Al-Risala · July 2019 · page 14

اصل سبب جہالت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴

اصل سبب جہالت

27 فروری 2002ء کو مغربی ہندوستان کے گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایک واقعہ ہوا۔ کچھ لوگوں نے مشتعل ہو کر ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگا دی جس میں تقریباً ساٹھ ہندو مسافر جل کر مر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آگ لگانے والے لوگ مسلمان تھے۔ اُس کے بعد مارچ 2002ء میں گجرات کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اُٹھا۔ اس فساد میں تقریباً ایک ہزار مسلمان مار ڈالے گئے، اور اُن کے بہت سے گھروں اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ گجرات میں اس فساد کو کرنے والے لوگ ہندو تھے۔

مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں واقعات کو کرنے والا ایک ہی مشترک گروہ تھا، اور وہ ہے جاہل اور بے پڑھے لکھے لوگوں کی بھیڑ۔ گودھرا ریلوے اسٹیشن پر جن لوگوں نے ٹرین کے ڈبہ میں آگ لگائی، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے، نہ کہ مسلمان۔ اسی طرح ریاست گجرات میں جن لوگوں نے جگہ جگہ خونی فساد کیا، وہ بھی اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے، نہ کہ ہندو۔ یہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوتے تو ایسا واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ تعلیم یافتہ انسان اور غیر تعلیم یافتہ انسان میں کیا فرق ہے۔ وہ شعور اور بے شعوری کا فرق ہے۔ غیر تعلیم یافتہ انسان اپنے نا پختہ شعور کی بنا پر صرف اپنے جذبات کو جانتا ہے۔ اس کے برعکس تعلیم یافتہ انسان اپنے پختہ شعور کی بنا پر اپنے جذبات کے ساتھ اُس کے نتائج (consequences) کو بھی جانتا ہے۔

اسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ غیر تعلیم یافتہ انسان کے جذبات کو اگر ٹھیس لگتی ہے، تو وہ بھڑک کر متشددانہ کارروائی کرنا شروع کر دیتا ہے، خواہ اُس کا نتیجہ زیادہ بڑے نقصان کی صورت میں خود اُس کو بھگتنا پڑے۔ اس کے برعکس اگر تعلیم یافتہ انسان کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے، تو وہ حکمت اور تحمل سے کام لیتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی شعوری بیداری کی بنا پر زندگی کی اس عالمگیر حقیقت کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page