Al-Risala · July 2019 · page 18

ڈی کنڈیشننگ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

ڈی کنڈیشننگ

پیاز کے اوپر ایک کے بعد ایک پرت ہوتی ہے۔ اگر ان پرتوں کو ہٹائیں تو ہٹاتے ہٹاتے اس کا آخری حصہ آجائے گا جو پیاز کا داخلی مغز ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ فطرت صحیح پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ماحول کے اثر سے اس کے اوپر خارجی افکار چھانے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ آدمی کی داخلی فطری شخصیت بالکل ڈھک جاتی ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی متعصبانہ طرزِ فکر کا کیس بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اپنی ساری عمر انہی تعصبات کے تحت سوچتا رہتا ہے اور آخر کار مر جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: من شب علی شئ شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)

یہ صورتِ حال ہر آدمی کو مطابق واقعہ سوچ (as it is thinking) سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کا علاج صرف ایک ہے۔ ہر آدمی پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد گہرائی کے ساتھ اپنا جائزہ لے۔ وہ اپنی کنڈیشننگ کی دوبارہ ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنی شخصیت پر چڑھی ہوئی اوپری پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ اس کی اصل فکری شخصیت اس طرح کھل جائے کہ وہ تعصبات سے پاک ہو کر سوچنے لگے۔ یہ اپنی مصنوعی شخصیت کو دوبارہ حقیقی شخصیت بنانے کا عمل ہے، جو ہر شخص کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اپنی کنڈیشننگ کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کا یہ عمل بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں آدمی کو خود اپنے خلاف ایک ذہنی محنت (intellectual labour) کرنا پڑتا ہے۔ اس میں آدمی کو اپنی مانوس اور محبوب سوچ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اس میں آدمی کو خود اپنے آپ پر بلڈوزر چلانا پڑتا ہے۔ تاہم یہی واحد عمل ہے، جو آدمی کو متعصبانہ یا غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ عمل گویا اپنافکری آپریشن کرنے کا عمل ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل ترین کام ہے۔ مگر اس کام کے بغیر کوئی بھی شخص بے آمیز سوچ کا مالک نہیں بن سکتا۔ اس معاملہ میں کوئی بھی دوسری چیز فکری تطہیر کا بدل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2019 All issues

Printed page