اسلامی نظام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۳۶
بنا پر حضرت یوسف نے اپنے وقت کے مشرک بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں مکیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس کے تحت پیغمبر یوسف توحید کے تقاضے پورے کرتے ہوئے رہ سکتے تھے۔ اسی طرح پیغمبرِ اسلام کے اصحاب کی دور کے آخر میں مکہ سے ہجرت کر کے حبش گئے۔ اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ کی حکومت تھی۔ اصحاب رسول نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔
یہ تصور کہ اسلام ایک معیاری سماجی نظام ہے اور اس کو دنیا میں عملاً قائم کرنا امتِ مسلمہ پر فرض ہے، یہ نظریہ اسلام کے اصل مقصد کے خلاف ہے، وہ اسلام کے نشانہ کو بدل دینے والا ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد خدا کی معرفت حاصل کرے۔ ہر فرد عبادت اور اخلاقیات میں ربانی بنے۔ ہر فرد فلاح آخرت کو اپنا ہدف بنائے۔ مگر مذکورہ نظریہ آخرت کے بجائے دنیا کو آدمی کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ وہ تعمیر آخرت کے بجائے تعمیر دنیا کو اپنی منزل مقصود سمجھ لیتا ہے۔ اسلام ایک ربانی مذہب ہے۔ مگر مذکورہ تصورِ اسلام کو ایک مادی اور سیاسی مذہب میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کو دریافت کرے۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے (آل عمران، 3:79)۔ وہ اپنے روزمرہ کے واقعات میں حقیقت اعلیٰ کی جھلکیاں دیکھنے لگے۔ وہ دنیا کی زندگی کو فتنہ (آزمائش) اور آخرت کی زندگی کو اصل مطلوب سمجھنے لگے۔ جو آدمی اس قسم کا ذہن رکھتا ہو اس کے لیے موجودہ دنیا میں معیاری قسم کا سماجی اور سیاسی نظام بنانا ایسا ہی ہے جیسے کہ ٹرین کا کوئی مسافر کسی پلیٹ فارم پر اپنی پسند کا گھر بنانے لگے۔
قرآن میں جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)۔ یعنی ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اَللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2961)۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
اس طرح کی تعلیمات قرآن وحدیث میں کثرت سے آئی ہیں۔ ان تعلیمات سے ایک شخص
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues