Al-Risala · August 2019 · page 40

ایک سنگین برائی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

ایک سنگین برائی

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ، وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَهُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 9569)۔ یعنی تم اپنے آپ کو حرص سے بچاؤ، کیوں کہ حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ابھارا تو انھوں نے اپنی حرام چیزوں کو حلال کر لیا، اور آپس میں خون ریزی کی، اور آپس میں قطع رحمی کی۔

شح کا مطلب ہے حرص (greed)، یعنی زیادہ چاہنا۔ حرص کا مزاج انسان کے لیے اتنا زیادہ نقصان دہ کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اوپر حرص کا جب غلبہ ہوتا ہے، تو وہ اس کی سوچ کو حرص والی سوچ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ کا خواہش مند ہوتا ہے۔ زیادہ چاہنے کا یہ مزاج آدمی کے اندر اور کئی برائیاں پیدا کرتا ہے۔ مثلاً وہ انسان کو اپنا دوست سمجھنے کے بجائے، انسان کو اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کو دینے کے بجائے، دوسروں سے لینے کا خواہش مند بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ انسان رخی سوچ کے بجائے خود رخی بن جاتی ہے۔ ایسا انسان ایک خود غرض انسان بن جاتا ہے۔

حرص کا مزاج آدمی کے اندر تنگ دلی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی کشادہ دلی کی اعلیٰ نفسیات سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنی ذات کو لے کر سوچتا ہے۔ انسانیت عامہ کو لے کر سوچنے کا مزاج اس کے اندر پرورش نہیں پاتا ہے۔ ایسا آدمی اس فطری حقیقت سے بے خبر ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں دینے والے کو ملتا ہے، جو آدمی دوسروں کو دینا نہ جانے، اس کو دوسروں کی طرف سے ملنے والا بھی نہیں۔ ایسا آدمی کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ بڑا منصوبہ بنانے کے لیے بڑا دل درکار ہوتا ہے، اور حرص کے مزاج کی بنا پر بڑا دل پہلے ہی اس سے رخصت ہو جاتا ہے۔ حرص بظاہر ایک اخلاقی برائی ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ انسان کی پوری شخصیت پر چھا جاتی ہے۔ حریص انسان بظاہر انسان ہوتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مثل حیوان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page