Al-Risala · January 2019 · page 42

ایک سوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲

مصادرِ شریعت چار ہیں، قرآن، سنت، قیاس، اور اجماع۔ یہ مسلک عین معاذ بن جبل کی روایت کے مطابق ہے۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ باعتبار حقیقت مصادرِ شریعت چار نہیں ہیں، تین ہیں۔ کیوں کہ قیاس اور اجماع دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جب قیاس کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد انفرادی قیاس ہوتا ہے اور جب اجماع کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد اجتماعی قیاس۔ قیاس اور اجماع دونوں کی اصل اجتہاد ہے۔

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ قرآن میں اجتہاد کا لفظ نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے ہم معنی دوسرا لفظ آیا ہے، اور وہ استنباط (النساء، 4:83) ہے۔ اجتہاد اور استنباط دونوں کا مشترک مفہوم ایک ہے، اور وہ استخراج (inference) ہے۔ جب کسی معاملہ میں حکم شرعی منصوص انداز میں موجود ہو تو وہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی معاملہ کا حکم بشکل نص موجود نہ ہو تو وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ غور وفکر کر کے متعلقہ معاملہ میں حکم کی شرعی تطبیق (application) کو دریافت کیا جائے۔ اسی عمل کو استخراج کہا جاتا ہے۔ یعنی نَصِّ شرعی کے حدود میں رہتے ہوئے، بطریق استنباط متعلقہ معاملہ کا حل تلاش کرنا۔

**********

مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے۔ یہ ذہن فطری طور پر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے۔ وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ہم اور وہ“ (We and They) کے تصور سے نا آشنا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے مومن کا تصور ہم اور ہم (We and We)

کے تصور پر مبنی ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page