جنت، ایک انعام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲
جنت، ایک انعام
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5673)۔ یعنی کسی آدمی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں، اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا: نہیں، میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانک لے۔ تو تم لوگ درستگی، اور اعتدال کا طریقہ اختیار کرو۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ابدی نعمت ہے، جب کہ انسان کا ہر عمل محدود ہے، اور کوئی محدود عمل، لامحدود نعمت کا عوض (substitute) نہیں بن سکتا۔ اس لیے جنت کسی انسان کو فضل خداوندی کے طور پر ملے گی، یعنی جنت مالک کائنات کی طرف سے بطور انعام ہوگی۔ اللہ رب العالمین جس انسان سے راضی ہو جائے، اس کو رضامندی کی علامت کے طور پر جنت دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (98:8)۔ یعنی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ قرآن میں اس رضامندی کی دو علامتیں بتائی گئی ہیں، محبت اور خشیت۔ محبت کے تعلق سے یہ آیت آئی ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (165: 2)۔ یعنی اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اسی طرح یہ آیت ہے: وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18)۔ یعنی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے جس بندے کو اس حال میں پائے کہ اس نے اپنے رب کی نعمتوں کا بہت زیادہ ادراک کیا۔ یہاں تک کہ اس کے اندر اللہ کے لیے وہ چیز پیدا ہوگئی، جس کو انسانی زبان میں محبت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جس نے اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کیا کہ اس کو اللہ سے خشیت کے درجے میں تعلق پیدا ہوگیا۔ جس انسان کو اللہ رب العالمین، اس حال میں پائے، اس کے لیے اللہ رب العالمین کی رحمت کا تقاضا ہوگا کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues