حزن فری جنت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷
بیان نہیں کی جاسکتی۔
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا مختلف الفاظ میں بار بار ذکر آیا ہے۔ ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ... لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ (33 & 56:12) ۔ یعنی نعمت کے باغوں میں ... کبھی نہ ختم ہونے والی اور بے روک ٹوک ملنے والی۔
In the Gardens of Bliss...neither interrupted, nor prohibited. یہ الفاظ بے حداہم ہیں۔ انسان کی فطرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے، جو آخری حد تک مسرت پسند (pleasure-seeking) مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ انسان غیر منقطع خوشی (uninterrupted pleasure) کا طالب ہے۔ ایسی لامتناہی نعمت تلاش بسیار کے باوجود کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ ایسی نعمتوں والے باغات کسی انسان کو صرف جنت میں مل سکتے ہیں۔ اس جنت کی مزید صفت یہ ہوگی کہ وہ انسان کو ابدی طور پر حاصل رہے گی۔ اس بات کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا (المعجم الصغير للطبرانی، حدیث نمبر 213 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2837) ۔ یعنی اہل جنت سے کہا جائے گا: تم صحت مند رہو کبھی بیمار نہیں پڑو گے، تم زندہ رہو تم پر کبھی موت نہیں آئے گی، تم آسائش کی زندگی گزارو کبھی کوئی پریشانی تم کو پیش نہیں آئے گی، تم جوان رہو کبھی تم بوڑھے نہیں ہو گے۔
ایسی دنیا جو ابدی طور پر غم سے خالی ہو۔ وہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ جنت انسانی فطرت کی طلب ہے۔ جنت انسانی خوابوں کی تکمیل ہے۔ جنت انسان کی آخری آرزو ہے۔ جنت وہ مقام ہے، جہاں پہنچ کر انسان کی تمام خواہشیں پوری ہو جائیں گی، یہاں تک کہ اس کی کوئی آرزو باقی نہ رہے گی۔ جنت رب العالمین کا قرب ہے، جس سے بڑی کوئی جگہ انسان کے لیے نہیں ہوسکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues