Al-Risala · September 2019 · page 34

پرامید آیات واحادیث

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۴

پرامید آیات واحادیث

امام سیوطی (وفات 911ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن کی پرامید آیتوں کی تعداد اس سے کچھ زیادہ ہے (الاتقان فی علوم القرآن، 4/149)۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ اسی طرح احادیث میں بھی اس قسم کے پرامید اقوال آئے ہیں۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي (مسند احمد، حدیث نمبر 7528) ، و فی رواية : إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي (مسند احمد، حدیث نمبر 8127)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب سے آگے ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت ایک بے حد پرامید آیت ہے۔ اسی طرح حدیث بھی ایک بہت پر امید حدیث ہے۔ دونوں میں جو مشترک بات ہے، وہ یہ ہے کہ اس امید کی بنیاد رحمت ہے۔ اللہ رب العالمین کی صفات میں ایک صفت اس کا رحیم و کریم ہونا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی یہ صفت بندے کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ پر امید صفت ہے۔ اللہ رب العالمین کا رحیم و کریم ہونا، اس کے بندوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ایسے الفاظ میں اپنے رب کو پکاریں، جو اللہ کی رحمت کو انوک کرنے والا ہو۔ اگر بندہ ایسی دعا کرے تو وہ گویا اسمِ اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اور جو آدمی اسمِ اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارے تو اللہ رب العالمین اس کی پکار کو ضرور قبول فرماتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page