یہ تضاد کیوں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲
احساس، اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں لذت سے تمتع۔
خالقِ کائنات نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ایسا کیا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ انسان کو ممکن لذتوں کا ابتدائی تعارف کراتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر تم ان لذتوں سے ابدی طور پر اور کامل طور پر متمتع ہونا چاہتے ہو تو اپنے اندر اس کا استحقاق پیدا کرو۔ یہ استحقاق کیا ہے۔ یہ استحقاق، ایک لفظ میں یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو پاکیزہ روح (purified soul) بنائے (طٰہٰ، 20:76)۔ یعنی وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے منفی احساسات سے پاک کرے۔ وہ اپنے آپ کو لالچ، خود غرضی، حسد، بددیانتی، جھوٹ، غصّہ، انتقام، تشدد اور نفرت جیسے تمام غیر انسانی جذبات کا شکار ہونے سے بچائے۔ وہ اپنے اندر وہ اعلیٰ انسانی شخصیت پیدا کرے جو مکمل طور پر مثبت شخصیت ہو۔ جو اپنے اعلیٰ اوصاف کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکے۔ جو شیطانی انسان سے اوپر اٹھ کر ملکوتی انسان (divine personality) بن جائے۔ انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے، موت سے پہلے اور موت کے بعد۔ اس مرحلۂ حیات کا نسبتاً مختصر حصہ موت سے پہلے کے دور میں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ طویل عرصہ موت کے بعد کے دور میں۔ انسان کی کہانی کو اگر صرف موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات کی نسبت سے دیکھا جائے تو وہ ایک المیہ (tragedy) نظر آئے گی۔ لیکن اگر انسان کی کہانی کو موت کے بعد کے مرحلۂ حیات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ مکمل طور پر ایک (comedy) نظر آنے لگے گی۔ فطرت کے اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان ایک انتہائی نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے مقام پر ہے جہاں اس کو دو ممکن انتخابات میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ موجودہ دنیا کے مواقع کو فطرت کے نقشے کے مطابق استعمال کرنا، اور پھر ابدی لذتوں میں جینے کا مستحق بن جانا۔ یا موجودہ دنیا میں غفلت کی زندگی گزارنا، اور بعد کے دورِ حیات میں ابدی طور پر لذتوں سے محروم ہو جانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues