Al-Risala · October 2019 · page 4

قرآن کا نزول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴

قرآن کا نزول

اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن اس لیے اتاری کہ وہ سارے عالم کے لیے انذار کا ذریعہ بنے۔ اس حقیقت کا اعلان سورہ الفرقان میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

قرآن خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے کا مستند اعلان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس خدائی اعلان کو پڑھے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ قرآن کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تا کہ وہ ان سے بیان کر دے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انذار کا یہ کام ہر قوم کی اپنی قابل فہم زبان(understandable language) میں انجام پائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کسی بین اقوامی زبان(lingua franca) میں نہیں ہے۔ بلکہ پورا قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر قوم کی اپنی معروف زبان(understandable language) میں کیا جائے۔ اور پھر کمیونی کیشن کے ذرائع کو استعمال کر کے اس کو تمام قوموں کے لیے قابلِ حصول بنایا جائے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا تو اس زمانے میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس زمانے میں رسول اور اصحاب رسول قرآن کے عربی متن (Arabic text) کے لیے مقری (reciter) بن گئے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آچکا ہے، تو اب قرآن کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے یہ کرنا ہوگا کہ قرآن کے متبعين، یعنی امت محمدی اس کی عالمی اشاعت کے لیے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے، جس کو اگر امت محمدی انجام نہ دے، تو اس کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page