Al-Risala · October 2019 · page 8

ایک پروفیسر کا واقعہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۸

دعوتی سیاحت ایک دعوتی گفتگو عرب امارات کے سفر (مئی 2004) میں جناب عاطف سید انور علی کاظم (38 سال) سے 9 مئی کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ انوکھے واقعات بتائے۔ اپنا ایک تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ملنا جلنا دبئی کے ایک عیسائی سے تھا۔ وہ کسی قدر اسلام کی طرف مائل تھا۔ پھرانھوں نے کہا کہ میں ایک عالم سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل کر اس عیسائی سے ملیں، اور اس کی تالیف قلب کے طور پر آپ کی طرف سے اسے ایک تحفہ پیش کیا جائے۔ اس عالم نے کہا: اِنَّ الْعِلْمَ يُؤْتَى وَلَا يَأْتِي (المدخل إلى السنن الكبرى للبیہقی، اثر نمبر 686)۔ یعنی علم کے پاس جایا جاتا ہے، علم خود نہیں آتا۔

یہ قول دراصل امام مالک کا ہے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے چاہا تھا کہ امام مالک انھیں اپنی کتاب موطأ سنانے کے لیے اس کے محل میں آئیں ۔ مگر امام مالک نے کہا کہ آپ کو میرے پاس آنا چاہیے۔ کیوں کہ طالب کو چاہیے کہ وہ خود چل کر علم کے پاس جائے، نہ کہ علم اس کے پاس آئے۔ عاطف صاحب نے مذکورہ جملے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ اصول غیر مسلموں کے لیے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر مسلم تک علم پہنچانا دراصل دعوت کا عمل ہے، اور دعوت ہمارا اپنا فریضہ ہے۔ جب ہم اسلام کا علم کسی غیر مسلم تک پہنچاتے ہیں، تو ہم خود اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور فریضہ ادا کرنا خود اس کا کام ہے، جس پر وہ چیز فرض ہو رہی ہو۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے مجھے نماز کا فرض ادا کرنا ہے، تو مجھے خود مسجد جانا پڑے گا۔ مسجد میرے پاس اٹھ کر نہیں چلی آئے گی۔

عاطف صاحب نے اس کے بعد تبلیغی جماعت کے بعض افراد سے رابطہ قائم کیا اور مذکورہ مسیحی کے بارے میں انہیں بتایا۔ وہ لوگ فوراً وہاں جانے کے لیے تیار ہوگئے، کیوں کہ ان کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page