زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۱
بنا پر اس قابل ہو جاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو دریافت کرلے۔ دور اول کے مسلمانوں کے اندر یہ صفت کامل طور پر موجود تھی۔ اس کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں ۔ ان کے اقدامات اتنے کامیاب تھے کہ ایرانی فوجی اپنا حوصلہ کھو بیٹھے ۔ وہ ان کے بارے میں کہنے لگے : دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے، دیو آگئے) الأخبار الطوال للدینوری، صفحہ 126۔ اس وقت ایرانی حکومت نے جنگ کو روک کر گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مسلم فوج کے کئی وفد ایرانیوں سے ملے۔ آخری وفد عاصم بن عمر و کا تھا۔ انہوں نے شاہ ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کا ایک ٹوکرا لایا جائے۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سر پر مٹی کا یہ ٹوکرارکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔ صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوئے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکرا ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔ شاہ ایران کا یہ سلوک بلاشبہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔ مٹی کا ٹوکرا دینے سے انہوں نے یہ فال لیا کہ ایرانیوں نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے۔ (أَبْشِرُوا فَقَدْ وَاللَّهِ أَعْطَانَا اللَّهُ أَقَالِيدَ مُلْكِهِمْ. وَتَفَاءَلُوا بِذَلِكَ أَخْذَ بِلَادِهِمْ) البدایة والنہایة، جلد 9، صفحہ 628۔
اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی نفسیات اور عروج کی نفسیات میں کیا فرق ہے۔ زوال کی نفسیات میں مبتلا لوگ محرومی کے احساس میں جیتے ہیں، چنانچہ وہ ہر واقعہ سے منفی غذا لینے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ عروج کی نفسیات میں جیتے ہوں، وہ ہر واقعہ سے مثبت غذا لیتے ہیں۔ وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو تلاش کر لیں، حتی کہ اپنے minus کو بھی اپنے plus میں تبدیل کر لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues