Al-Risala · October 2019 · page 48

آج کا نوجوان

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۸

آج کا نوجوان

میرا تجربہ یہ ہے کہ آج نوجوان خواہشیں بہت رکھتے ہیں، لیکن وہ غور وفکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ ان کا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط۔ (ایک قاری الرساله، دہلی)

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ پروفیشن کے اعتبار سے پڑھتے ہیں۔ تعلیم کے وسیع تر مفہوم میں ان کا کوئی مطالعہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ پروفیشنل ڈگری لے کر کمائی تو اچھی کر لیتے ہیں، لیکن زمانے سے واقفیت کے بارے میں ان کا بہت زیادہ مطالعہ نہیں ہوتا۔ اس بنا پر ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دور جدید نے ان کو بہت زیادہ آزادیاں دی ہے۔ لیکن عملاً وہ آزادی کو بے راہ روی کے لائسنس کے طور پر لے لیتے ہیں۔ وہ آزادی کو اس معنی میں نہیں لیتے کہ آزادی نے قدیم زمانے کی موناپلی (monopoly) کا خاتمہ کر دیا، اب ہر دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے عملاً بے خبر رہتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ بہت ذمے داریاں (responsibilities) ہوتی ہیں۔ جو آدمی ذمے داریوں کو نبھانا نہ جانے، اس کو یہ حق نہیں کہ وہ آزادی کا کھلا استعمال کرے۔

یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانے میں ہر ایک کے لیے آزادی کے دروازے کھل گئے ہیں۔ لیکن اجتماعی زندگی (social life) میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر ایک کے مشترک فائدے کی بات یہ ہے کہ وہ آزادی کو اس طرح استعمال کرے کہ دوسرے انسانوں کے لیے مسئلہ پیدا نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو سوچنے کے اعتبار سے مکمل آزادی ہے، لیکن عملی استعمال کے اعتبار سے ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آزادی کو محدود دائرے میں استعمال کرے۔ مشہور مقولے کے مطابق، ہر آدمی کو آزادی کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ ہر آدمی کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے، جہاں دوسرے انسان کی ناک شروع ہوتی ہے۔ دوسرے کو نقصان پہنچا کر آزادی کا استعمال کرنا، آزادی کی نفی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page