Al-Risala · November 2019 · page 4

سچائی کا سفر

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴

سچائی کا سفر

سچائی کا سفر ایک فطری سفر ہے۔ وہ اتنا آسان ہے کہ ہر آدمی عین اپنے پاس سے اس کو شروع کر سکتا ہے۔ مثلاً بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عرب بدو سے سوال کیا گیا: مَا الدَّلِيلُ عَلَى وُجُودِ الرَّبِّ تَعَالَى؟ فَقَالَ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّ البعر ليدل عَلَى البعير، وَإِنَّ أَثَرَ الْأَقْدَامِ لَتَدُلُّ عَلَى الْمُسِيرِ، فَسَمَاءٌ ذاتُ أبراج، وَأَرْضٌ ذاتُ فِجاج، وَبِحَارُ ذاتُ أَمْوَاجِ أَلا يَدُلُّ ذَلِكَ عَلَى وجودِ اللطيف الخبير؟ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 106)۔ یعنی رب العالمین کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہا: سبحان اللہ، مینگنی اونٹنی پر دلالت کرتی ہے، قدم کے نشان چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں، تو برجوں والا آسمان، اور کشادہ راستوں والی زمین، اور موجوں والے سمندر، کیا اس ذات پر دلالت نہیں کریں گے، جو بڑا باریک بیں اور بڑا با خبر ہے؟ یہ واقعہ ایک عام انسان کا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کی پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker) ہو۔ مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پہچانیں۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہو جاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خلاق اور رزاق ہی کر سکتا ہے۔ اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خلاق اور رزاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ خدا کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔ اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہا جاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے (فصلت، 41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page