حق کی تلاش
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۶
خدا کی دریافت Discovery of God خدا کی فلسفیانہ تلاش (philosophical pursuit of God) کی تاریخ قدیم یونان کے دور تک جاتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ پہلا یونانی فلسفر تھلیز آف میلٹس ( Thales of Miletus) تھا، جس کا زمانہ 546-624 قبل مسیح ہے۔ فلسفہ (philosophy) اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی تلاش کا نام ہے۔ لیکن فلسفہ کبھی خالق کی دریافت میں کامیاب نہ ہوسکا۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے:
Philosophy is the study of general and fundamental questions about existence, knowledge, values, reason, mind, and language. یہ فلسفہ کے مضمون کا ظاہری بیان ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے فلسفہ خدا (supreme truth) کی علمی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ تمام فلسفی کسی نہ کسی عنوان کے تحت حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ برطانی فلسفی برٹرینڈ رسل (1872-1970) کے بارے میں اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ برٹرینڈ رسل ایک ایسا فلسفی تھا، جو اپنا کوئی فلسفہ ڈیولپ نہ کر سکا:
Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy مگر یہ صرف ایک فلسفی کی بات نہیں۔ بلکہ تمام فلسفیوں کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔ حقیقت اعلیٰ (supreme reality) ہر فلسفی کی تلاش کا موضوع رہا ہے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔
اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریق کار (methodology) کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی (1642-1564) نے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues