Al-Risala · November 2019 · page 15

زیرو ڈیفکٹ کائنات

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۵

توپیشگی طور پر آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ 15 اپریل 2025 کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا :

طلوع آفتاب (Sun rise) 05:56 غروب آفتاب (Sun set) 18:46 سورج کے طلوع و غروب کے بارے میں یہ وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیا کا نظام کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرانومی، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکارڈ ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنی فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا، وہاں انتہائی کوشش کے باوجود زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیواین مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ اس دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجود زیر و ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے : Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book “Absolutes of Quality Management” has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that “zero defects” in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page