Al-Risala · November 2019 · page 17

زیرو ڈیفکٹ کائنات

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷

اسی طرح ایک آیت یہ ہے: أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوج (50: 6)۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور اس کورونق دی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں کائنات کے بے خطا نظام کی یہ دریافت (discovery) اللہ رب العالمین کی ایک صفت کو ثابت شدہ بنا رہی ہے، اور وہ ہے: الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ (2: 255)۔ یعنی وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے، اور نہ نیند۔

☆☆☆☆☆

موجودہ زمانے کے سائنس دانوں نے جن چیزوں کی کھوج کی ہے، ان میں سے ایک بالائی تہذیب (alien civilizations) ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا خلا میں کوئی اور تہذیب ہے، جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ پچھلے 25 برسوں کے سائنسی مطالعے نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری ٹیکنکل سولائزیشن‘ بھی ہوسکتی ہے۔

اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کو کائنات میں ماورائی ذہانت (extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کا یقین بڑھتا، مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو حقیقۃً خدا کا وجود ثابت کر رہی ہے، اس کو اس معنی میں لے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالاں کہ کائنات میں ”ذہانت“ کے آثار کا ملنا، اور ذہانت کا نظر نہ آنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی اور غیر مرئی (invisible) ہے، نہ کہ انسان کی طرح دکھائی دینے والی۔ (ڈائری، 7 جنوری 1984)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page