Al-Risala · November 2019 · page 32

کائنات کی معنویت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲

کائنات کی معنویت

سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتناہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کام کر رہا ہے تو کائنات کا نادر ظاہرونا قابل توجیہہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات انسان کے لیے ایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان مطابقت کو قائم کیا، تو اس ظاہر کے کوئی قابل فہم تو جیہہ ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرِ کے کی کوئی توجیہہ ہونی چاہیے۔

سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation) کی دریافت ہے۔ لیکن تخلیق کے مطالعے میں خالق (Creator) کا مطالعہ اپنے آپ شامل ہے۔ اس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کی دریافت کے ہم معنی بن گئیں، جن کو قرآن میں ’آیات اللہ‘ (signs of God) کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page