Al-Risala · November 2019 · page 34

سائنس کی شہادت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۴

history of science at Boston University. The above are excerpts taken from a review on the book by physicist Alan Lightman for The Washington Post, April 11, 2014)

سائنس کی شہادت

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51: 56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ليعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد : الا لیعبدون : لیعرفون ) البحر المحیط، لابی حیان الأندلسی، یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔ قال ابن جريج : الا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، ابن جریج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کرده معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیو لپ کرے ۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کر لے۔ اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کر لے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page