Al-Risala · November 2019 · page 40

خدا کا وجود اور سائنس

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰

from the fetters of religious indoctrination received in youth." (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)

عقیدہ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے ۔ خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طور پر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کر سکتا ہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جونشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔

اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طور پر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنویت، ڈیزائن، ذہانت اور با مقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گو یا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔ خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابل انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کر رہی ہے، انکار خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرار خدا کے نظریے کی تصدیق۔ اس اصولِ استدلال کو سائنس میں ویری فلیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت (principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذات خود قابل مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطورِ حقیقت تسلیم کر لیا جائے گا۔ سائنس کے اس اصول استدلال کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page