خدا کا وجود اور سائنس
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۲
خدا کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طور پر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔
سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کا ئنات کا جو ماڈل دے رہا ہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبب (causative factor) کو بھی بتایا گیا ہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کر رہی ہے تو منطقی طور پر اس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔
خدا کا وجود
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگر چہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہو گیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ تھا— خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے:
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. آئن اسٹائن نے جس چیز کو 'انسانی کمزوری' بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ اس خصوصیت کو درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتا ہے، اور پھر وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues