Water, water everywhere, Nor any drop to drink.
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۵۰
ہے، نہ کہ ظای جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتا ہے، مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے۔ ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طور پر دیکھا ہو۔
موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک ایکسپریس ٹرین برآمد ہو جائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے۔
☆☆☆☆☆
لیوس ٹامس (Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔ اس کی پیدائش 1913 میں ہوئی، اور وفات 1993 میں ہوئی۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں ۔ وہ خلا میں لٹکا ہوا، اور بظاہر ہر ایک زندہ کرہ ہے: hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135)
یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا ( vast space ) میں مسلسل گردش کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہو جائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اور جلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔
زیر نظر شمارہ آنے والی کتاب ’’خالق کی دریافت‘‘ کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues