الله کی رحمت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۶
الله کی رحمت
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک بات بظاہر غیر مذکور ہے، مگر وہی بات آیت کا اصل مدعا ہے۔ آیت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہ کیس اس انسان کا ہے، جو غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہو، اور اللہ سے مغفرت کا طالب ہو، تو ایسے انسان کو یہ امید رکھنا چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہوگا کہ اس کو معاف کر دیا جائے، اور اس کو جنت میں داخلہ دے دیا جائے۔
دوسری آیات اور احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے اندر غلطی کرنے کے بعد شرمندگی ہو، اور اس کے اندر ندامت (repentance) کا احساس جاگ اٹھے۔ یہ احساس انسان کی اصلاح کا ضامن ہے۔ انسان کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی فطرت پر قائم رہے، تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ غلطی کرنے کے بعد اس کے اندر ندامت کا احساس جاگ اٹھے۔ اس احساس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی احساس خطا کے ساتھ اللہ سے معافی کا طالب ہوگا۔ یہ نفسیاتی واقعہ آدمی کی اصلاح کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
یہ نفسیاتی واقعہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ غلطی کرنے کے بعد اپنی اصلاح کرے۔ وہ غلطی کرنے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو اصلاح یافتہ بنالے۔ وہ گمراہی کی تاریکی کو دوبارہ روشنی میں تبدیل کرلے۔ وہ اپنی غفلت کو دوبارہ بیداری بنالے۔ وہ آلودگی میں مبتلا ہونے کے بعد دوبارہ اپنے آپ کو پاک وصاف بنالے۔ وہ خدا سے دور ہونے کے بعد دوبارہ خدا کی قربت حاصل کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues